Neon drop · Free ship $75+ · Enter the grid
Signal · Product Feed

Buri Bla hai ishk Timothy Ferriss کیا واقعی ادب ایک تمدنی

SKU: 82724963936

4.6
USD500.00 USD521.00

Pay in 4 interest-free payments of $125.00 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 26 - Aug 31

Live Spec

Buri Bla hai ishk Timothy Ferriss کیا واقعی ادب ایک تمدنیBuri Bla hai ishk

Store: happygoluckyhtx.com · Domain: happygoluckyhtx.com

Description

کیا واقعی ادب ایک تمدنی ادارے کے طور پر ختم ہوچکا ہے؟

پاکستان کی سیاست کے محرکات کو اس وقت تک سمجھا ہی نہیں جا سکتا ، جب تک ہم پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا مطالعہ نہ کریں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ پاکستانی سیاست پر لاتعداد کتابیں تو موجود ہیں مگر سیاسی جماعتوں کے متعلق کتابیں انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں۔ نازیہ شکیل صاحبہ نے یہ کتاب لکھ کر پاکستان کی سیاست کو جاننے کے در کھول دئیے ہیں۔ جیسے پاکستان کی سیاست کو جاننے کے لیے سیاسی جماعتوں پر تحقیق کی ضرورت ہے ، ایسے ہی سیاسی جماعتوں کے اندرونی محرکات کو جاننے کے لیے ، مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین(پولیٹکل ایکٹوسٹ )کے نکتہ ہائے نظر کو جاننا لازمی ہے۔ اس کتاب کی یہ خوبی پہلے سے موجود تمام کتابوں کے مقابلے میں نمایاں ہے۔ اس کتاب میں مصنفہ نے نہایت محنت اور تحقیقی مشکلات کے دوران ، مختلف الخیال پولیٹکل ایکٹوسٹس کے انٹر ویوز کیے ہیں ، جس کے بعد یہ کتاب پاکستان میں اپنے موضوع کے اعتبار سے منفرد مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

غلام باغ اردو ناول میں ایک ایسا اضافہ ہے جو اداس نسلیں کے عروج سے شروع ہوا اور غلام باغ کی ارزل نسلوں تک پہنچتا ہے۔ جی ہاں، ارزل نسلیں جن کے نام پر اس ناول کا انتساب ہے، جن کا ذکر اس ناول کے شروع سے آخر تک موجود ہے۔ ارزل نسلیں وہ نسلیں ہیں جن کی اپنی کوئی اساطیر نہیں ہیں۔ وہ اسی لیے بھی ارذل نسلیں کہلاتی ہیں کہ وہ اپنی کہانی خود نہیں سنا سکتیں۔ اساطیر گزرے زمانوں کی داستانیں ہوتی ہیں۔ یہ ناول کلونیل دور میں ارذل بنا دی گئی نسلوں کو اپنی تاریخ دوبارہ لکھنے کی طرف اکساتا ہے۔ اپنی تاریخی حقیقت کو پہچاننے اور اسے کھنگال کر دوبارہ لکھنے کی یہی کوشش ہم شعوری سطح پر اس ناول میں دیکھ سکتے ہیں۔ چونکہ ناول نگار فلسفے کے استاد ہیں لہذا اس سے یہ تاثر لیا گیا کہ مذکورہ ناول میں بھی انہوں نے فلسفیانہ انداز میں کچھ مسائل سلجھائے ہیں لیکن یہ خیال ایک ظاہری تاثر سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ یہ ناول بے ہیت، علامتی اور تجریدی ہونے کی وجہ سے منفرد ہے۔ شاید اس لیے سپاٹ کہانیاں پڑھنے کے عادی اردو قارئین کے لیے اس سے خود کو جوڑے رکھنا تھوڑا مشکل ہے، ورنہ تمام تر تجریدیت، علامتی انداز اور تجربیت کے باوجود یہ ناول اپنے اندر ایک تسلسل رکھتا ہے اور اسکی قرات میں دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ تعلقات کی پچیدگی، غلبے کے اثرات، نیلے رجسٹر، لالکھائی جیسی لایعنی بک بک اور گنجینہ نشاط سے خصی کلب جیسے گینگ کی گتھیاں سلجھاتا یہ ناول موضوع، ہیت، نئے اسلوب و زبان، طویل مکالموں اور منفرد تکنیک کی وجہ سے نہ صرف اردو ناولوں کی صف میں منفرد مقام پر کھڑا نظر آتا ہے بلکہ بقول عبداللہ حسین کے تکنیک کا یہ منفرد انداز ہمیں انگریزی ناولوں میں بھی ناپید نظر آتا ہے اور اس کے ڈانڈے یورپی اور پوسٹ ماڈرن فرانسیسی ناولوں سے ملتے ہیں۔

عرفان جاوید لاہور میں پیدا ہوئے ، گورنمنٹ کالج لاہور، انجینئرنگ یونی ورسٹی لاہور سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد سندھ یونی ورسٹی سے عمرانیات ( ماسٹرز ) میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ بیرون ملک سے کئی کورسز کر چکے ہیں۔ ان کی سیاسیات پر ایک کتاب مختلف کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں بہ طور ریفرنس بک پڑھائی جاتی رہی ہے۔ انھوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز احمد ندیم قاسمی کے موقر ادبی رسالے "فنون" سے کیا۔ ان کی تخلیقات پاک و ہند کے نمایاں اور موقر رسائل و جرائد میں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کے انگریزی مضامین بھی مختلف رسائل و جرائد میں شرمندہ اشاعت ہوئے ہیں۔ ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ ” کافی ہاؤس ، خاکوں کی معروف کتاب "دروازے" ، خاکوں اور تذکروں پر مشتمل کتاب "سرخاب" اور علمی و فکری مضامین پر مشتمل وقیع تصنیف "عجائب خانہ" شائع ہوکر عوام و خواص میں وسیع پیمانے پر شرف قبولیت پاچکی ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے آصف اسلم فرخی محمد الیاس اور محمد حمید شاہد کے افسانوں کے انتخاب مع مقدمات "سمندر کی چوری" ”مورتیں" اور "اندر کا آدمی" کے عنوانات سے شائع ہو چکے ہیں۔"آدمی" کے نام سے شائع ہونے والی یہ کتاب چند زندگی بر دوش، عجوبہ روزگار، نادرہ کار لوگوں کی فکر آفریں وزندگی آموز داستانوں پر مشتمل ہے۔ ایسی کتابیں کم کم لکھی گئی ہیں اور اردو میں تو بہت ہی کم عمیق مشاہدے، دل آویز نشر ، دل چسپ بیان اور منفر د وانوکھے موضوعات و کرداروں پر تحریر کردہ یہ کتاب ایک اہم تصنیف کا درجہ رکھتی ہے۔

Divided into four parts

Buri Bla hai ishk Timothy Ferriss کیا واقعی ادب ایک تمدنیBuri Bla hai ishk

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products